باب اول:

ماضی ہمیشہ ساتھ رہتا ہے

رات کا اندھیرا ہو یا پھر ہو دن کا سویرا

ماضی ہمیشہ ساتھ رہتا ہے

لوگوں سے دور ہو توں یا بھیڑ میں انسانوں کی

ماضی ہمیشہ ساتھ رہتا ہے

توں ہے عقل کا حامل تیری عقل بھی سلامت ہے

توں تو جانتا ہے نا ماضی ساتھ رہتا ہے

اذان فجر ہو چکی تھی۔ اندھیرے کا سینہ چاک کرنے کو روشنی تیار کھڑی تھی۔سناٹا چاروں اور پھیلا تھا۔یہ کیسا وقت تھا ،یہ کیا ماجرا تھا ؟ اس وقت تو دعا کے لیے ہاتھ بلند ہونے چاہیے تھے ،مگر وہ دعا کرنے والے کیا ہوئے؟ خیر ہم کہانی میں آگے بڑھتے ہیں۔

گلی کے احاطے میں داخل ہوتے وہ آگے بڑھنے لگا۔دائیں جانب مڑا تو ایک بلند وبالا عمارت سامنے سینہ تانے کھڑی تھی۔عمارت میں داخل ہوا تو چاروں طرف نظر دوڑائی، چند ہی لوگ دکھائی دیئے ۔

ابان بیٹا تم آ گئے !

اسے اپنے عقب سے آواز سنائی دی تھی، بھلا کیا وہ اس آواز کو کبھی بھول سکتا ہے؟جی امام صاحب! ابان بیٹے تم ہر بار وقت پر آتے ہو جب کہ آج لوگ نیند کو ترجیح دیتے ہیں۔امام صاحب آپ نے ہی تو کہا تھا کہ نماز نیند سے بہتر ہے۔ہاں میرے بیٹے اللہ تمہیں ایسے ہی سیدھے راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔

نماز کا آغاز ہوا ۔تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کا آغاز ہوا(سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ) قرآت کی گئی اور رکوع میں اس کی زبان دہرا رہی تھی (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم) مگر اس کی آنکھیں جل رہی تھیں، ایسا کیوں آخر وہ نماز کے دوران کیوں رورہا تھا۔سجدے میں اس کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى

سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى

سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى

اللہ اکبر

بقیہ نماز مکمل کرکے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔امام صاحب اسے جاتا دیکھتے رہے صرف وہی تو جانتے تھے کہ وہ کیوں جا رہا تھا۔

روشنی پھیل چکی تھی۔سورج آتے جاتے لوگوں کو صبح بخیر کہتا دکھائی دے رہا تھا۔ گرم ہواؤں نے سارے شہر کو اپنے آغوش میں لے رکھا تھا۔بازار میں آج معمول سے زیادہ رش تھا۔ لوگوں کی بھیڑ میں اضافہ ہو رہا تھا۔عورتیں خریداری کرتی دکھائی دیتی تھیں۔لڑکیاں چوڑیاں خرید رہی تھیں۔لڑکیوں کا ایک ٹولہ مہندی لگوا رہا تھا۔عیشاء حنا آرٹسٹ ایک مشہور نام تھا۔چونکہ کل عید تھی تو تمام خواتین وحضرات کی تیاریاں عروج پر تھیں۔شور ،خوشی،گرم جوشی سب تھا پر اگر کچھ نہیں تھا تو وہ بچپن والی عید تھی۔بازار سے واپسی کا رخ کیے ہم اسلام آباد کے پر سکون حصے کی اور بڑھتے ہیں وہاں جہاں ہزاروں کہانیاں جنم لیتی ہیں۔سڑک ویران تھی ۔سڑک کے دونوں اطراف اونچے اونچے درخت تھے۔پتوں کی سرسراہٹ سرگوشیاں کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ جیسے تمہیں خوش آمدید کہنا چایتی ہوں۔ کچھ لوگوں کو اس سرسراہٹ سے خوف آتا ہے اور کچھ اس مدھم آواز سے مسرور ہوتے ہیں ۔تم اس سڑک پر آؤ گے تو کیسا محسوس کرو گے؟

قدموں کی آواز پتوں کی سرسراہٹ پر غالب آچکی تھی۔ وہ سڑک پر چلتی اپنے ہاسٹل کی طرف واپس جا رہی تھی۔سیاہ لمبی قمیض تلے سیاہ رنگ کا پلازو پہنے ہوئے تھی۔دوپٹہ سر پر اچھے سے جما تھا اور اس کے سنہری بال کمر سے نیچے گرتے تھے۔قد دراز تھا ۔پتلی دبلی جسمامت تھی۔ نقوش کافی نفیس تھے۔اس کا شمار خوبصورت لڑکیوں میں ہوتا تھا۔اریزا رکو یار! عقب میں دوڑتی میرال نے اب کے اس کا بازو کھینچ کر اسے روکا تھا۔میں ہاسٹل جا رہی ہوں تمہیں اگر بازار جانا ہے تو خود چلی جاؤ ۔اریزا میں تمہاری دوست ہوں تم میرے لیے میرے ساتھ بازار نہیں جاسکتی؟میرال مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے ہاسٹل پہنچنا ہے۔آمنہ آنٹی انتظار کر رہی ہوں گی۔پلیز اریزا میں شام کو لاہور چلی جاؤں گی۔اور مجھے مہندی عیشاء حنا آرٹسٹ سے ہی لگوانی ہے۔پلیز چلو نا۔وہ اب کے منت کر رہی تھی۔اچھا پہلے مجھے آمنہ آنٹی کو کال کر کے بتانے دو۔اریزا نے فون کی سکرین پر کچھ ہندسے ٹائپ کیے اور کال ملائی۔ہاسٹل میں آؤ تو آمنہ آنٹی سوفے پر براجمان تھیں ہاتھ میں چائے کا کپ تھا ۔کہ فون کی سکرین روشن ہوئی۔اریزا کالنگ۔انھوں نے ہاتھ آگے بڑھا کر ٹیبل پر پڑا فون اٹھا کر کال ریسیو کی اور فون کان سے لگایا۔دوسری جانب سے الفاظ سنائی دیے آنٹی مجھے ایک کام سے میرال کے ساتھ بازار جانا ہے تو آنے میں دیر ہو جائے گی۔ اوکے بیٹا !لیکن زیادہ دیر مت کرنا۔اوکے آنٹی۔کال کاٹ دی گئی۔سامنے کھڑی میرال اریزا کو ہی دیکھے جا رہی تھی جیسے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہو۔مگر مجال ہے جو اس لڑکی نے اپنی دوست کا کبھی شکریہ ادا کیا ہو۔ دوستی میں بھی بھلا کوئی شکریہ ادا کرتا ہے کیا؟؟وقت تیز رفتار سے چل رہا تھا۔واقعی قدرت اپنی چال وقت پر چلتی ہے۔وقت بیت رہا تھا ۔صبح کی دل کو لبھانے والی روشنی اب کے دوپہر کی آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی میں تبدیل ہو چکی تھی۔لاہور کی ہواؤں میں بے چینی پھیل رہی تھی۔ اور یہ بے چینی کسی طوفان کا پتہ دیتی تھی۔اندرون لاہور میں داخل ہو تو تم دیکھو کہ پرانی عمارتیں کتنی دل کش ہوتی ہیں۔گلی میں داخل ہوتے ہی تمہیں اپنے دائیں اور بائیں جانب دو وسیع عمارتیں دکھائی دیں گی۔میروں کی حویلی کے سامنے یعنی تمہارے بائیں جانب حاکم ہاوس دکھائی دے گا تمہیں۔کیا تمہیں نہیں لگتا کی ہمیں ان دونوں عمارتوں کا دورہ کسی اور وقت کرنا چاہیے۔اسلام آباد میں واپس آؤ تو عیشاء حنا آرٹسٹ کے یہاں تو جیسے نعرے لگائے جا رہے ہوں نہیں مجھے آئے ہو کافی وقت ہو گیا ہے پہلے مہندی میں لگواؤں گی۔ایسے میں آگر ہم تھوڑا آگے بڑھیں تو ایک سفید ٹیبل کے گرد پڑی سیاہ کرسیوں پر وہ دونوں براجمان تھیں۔عیشاء حنا آرٹسٹ کی ایک ورکر میرال کو مہندی لگانے میں مصروف تھی۔جب کہ اریزا بار بار فون کی سکرین روشن کرتی اور وقت دیکھتی اور ساتھ بیٹھی میرال کو ۔گھڑی دن کے تین بجا رہی تھی ۔وہ دونوں پچھلے تین گھنٹے سے وہاں پر موجود تھیں۔آپ بھی سوچیں گے کہ اتنی دیر تو دیکھیں وہاں رش بہت تھا۔اریزا تم بھی مہندی لگوا لو ۔میرال کی بات پر اریزا کوکوئی جھٹکا لگا ہو جیسے۔نہیں مجھے نہیں لگوانی اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا ۔میرال منھ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔آخر اسے مہندی لگوانے سے کیا مسلہ تھا ۔اسے مہندی سے مسلہ تھا یا مہندی سے جڑی یادوں سے؟خیر ہم آگے بڑھتے ہیں۔روشنی دھیمی پڑنے لگی تھی۔تاریکی اپنے پر پھیلانے کو تیار ہو جیسے۔ چھے بج چکے تھے۔وہ دونوں ہاسٹل کے کمرے میں تھیں۔میرال تم آخر کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟میرال بی بی آپ پچھلے پندرہ منٹ سے الماری میں منہ گھسائے کھڑی ہیں ۔بتانا پسند کریں گی کہ آپ کیا ڈھونڈ رہی ہیں؟؟اب کے اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔مل گیا۔پورے پندرہ منٹ کی کڑی محنت کے بعد آخر اسے وہ سنہری کنگن مل ہی گیا تھا۔وہ کنگن بہت نفیس تھا۔یہ لو ۔میرال نے وہ اریزا کی طرف بڑھایا۔یہ کیا ہے؟ تمہارا عید کا تحفہ! واقعی میرال یہ مجھے تم دے رہی ہو ۔اسے جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو۔ہاں مجھے پسند آیا تو میں نے یہ تمہارے لیے خرید لیا۔دوستوں کے دیئے تحفے کتنے قیمتی ہوتے ہیں نا! وہ دونوں باتیں کر رہی تھیں کہ اچانک میرال کے فون کی سکرین روشن ہوئی۔ماما کالنگ کے الفاظ دکھائی دیئے۔ اس نے کال ریسیو کر کے فون کان سے لگایا ۔ہیلو ماما!کیسی ہیں آپ؟؟دوسری جانب سے خیر کا جواب دے کر تسلی کروائی گئی۔تم نے تیاری کر لی ؟؟جی ماما سارا سامان پیک کر لیا میں نے۔میری زرا اریزا سے بات کروا دو۔ہیلو آنٹی کیسی ہیں آپ ؟میں ٹھیک ہوں بیٹا ۔میں تم سے ایک درخواست کرنا چاہتی تھی۔ جی آنٹی بولیں۔تم میرال کے ساتھ گھر آ جاؤ۔یہ عید ساتھ مناتے ہیں۔مگر آنٹی میں کیسے آسکتی ہوں ۔پلیز بیٹا میری بات مان لو ۔آوکے آنٹی میں آ جاؤں گی۔انھوں نے چند باتیں اور کیں اور الوداعی کلمات کے ساتھ کال کاٹ دی۔اسلام آباد کی ہوا نفی میں سر ہلا رہی تھیں جیسے کہنا چاہتی ہوں کہ لاہور مت جاؤ اریزا۔ادھر لاہور کی ہوا بوجھل ہونے لگی تھی۔قدرت اپنی چال چلنے کو تیار تھی۔دونوں کو نو بجے لاہور جانے والی ٹرین پر سوار ہونا تھا۔وہ دونوں سامان پیک کر کے اسلام آباد ایکسپریس ٹرین پر سوار ہونے نکل چکی تھیں۔وہ ایک سیاہ رنگ والی ٹیکسی میں سوار تھیں۔گاڑی روڈ پر دوڑ رہی تھی۔اس نے موبائل فون ہاتھ میں لیے اس کی سکرین روشن کی ۔وٹس آپ کھولا ۔سیٹنگ کھولی اور بلاک یوسرز پر کلک کیا۔ایک نمبر چمکا ۔ڈی پی دیکھنی چاہی ۔ہوائیں رکنے کی منت کر رہی تھیں۔آس پاس کا شور تھم گیا تھا ۔سانس جامد تھی ۔درختوں کے پتے متحرک ہوئے اگلے لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔کہ اریزا آدم خود کو روکنے میں ناکام رہی ۔ڈی پی پر کلک کیا گیا۔ایک تصویر سامنے آئی۔دراز قد تھا وہ۔ ایک حسین مرد۔اس کی سیاہ آنکھیں چمک رہی تھیں۔اس کے دل میں کچھ زور سے چبھا تھا۔اور اس نے فوراً فون کی سکرین بجھا دی۔آخر کون تھا وہ سیاہ آنکھوں والاحسین مرد؟گاڑی سٹیشن پر پہنچ چکی تھی ۔اب کے وہ دونوں لاہور روانہ ہوتی ٹرین میں سوار ہو چکی تھیں۔اریزا کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھی تھی ۔میرال اپنے کانوں میں ائر فون لگائے آنکھیں موندے سیٹ پر سر گرائے ہوئے تھی۔کیا وہ اس روپ میں تمہیں اچھی لگتی ہے؟؟ہوائیں چہرے سے ٹکراتی تھیں۔ وہ کھڑی کے پاس والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ کھڑی کے باہر کا منظر بدلنے لگا تھا۔ وہ ایک یونیورسٹی کا کمرہ جماعت تھا۔ کلاس ختم ہو چکی تھی۔مگر وہ دونوں ابھی تک کلاس میں ہی تھے۔اپنا سامان سمیٹ رہی تھی ۔وہ جانتی تھی کہ نظریں اس پر جمی ہیں اس کی مگر وہ پیچھے نہیں موڑی تھی۔آخر اریزا تھی وہ ،وہ ہر کسی کی طرف مائل نہیں ہوا کرتی تھی۔تمہارے ہاتھوں میں مہندی اچھی لگتی ہے۔وہ اس کے عقب میں کھڑا یاسر عالم بننے کی کوشش کررہا تھا۔اور ایک وہ جس کے نکھرے ہی ختم نہیں ہو رہے تھے۔کب تک ناراض رہو گی ؟جب تک تم مر نہیں جاتے ۔اللہ اللہ کیوں شادی سے پہلے ہی بیوہ ہونا چاہتی ہو۔مجھے ایک ضروری کام تھا اسی لیے حیدر کی میندی میں نہیں آسکا یار ۔بات کو سمجھو۔تم میری بات سنو ۔اب کے وہ واقعی ناراض ہوئی تھی۔تمہارے لیے اگر اپنا کام ضروری ہے تو جا کر وہی کرو میرا دماغ مت خراب کرو۔اریزا !اریزا یار میری بات سنو۔مگر بے سود وہ اپنا سامان اٹھا کر جا چکی تھی۔یہ اریزا مختلف تھی نا اس اریزا سے جسے ہم جانتے ہیں؟درد بڑھ رہا تھا وہ ان یادوں سے نکلنا چاہتی تھی ۔اس نے سر جھٹکا منظر بدلا ۔لاہور پہنچے میں ایک گھنٹے کا سفر باقی تھا۔اب وہ اس درد کے ساتھ یہ سفر کیسے گزارے گی؟سفر اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔اب کے وہ ایک کمرے میں بیٹھے تھے۔کمرہ بیٹھک نما تھا۔میزبان مہمانی نوازی میں لگے تھے مگر وہ اس مہمان نوازی سے مسرور نہیں ہو رہی تھی ۔کچھ تھا جو اسے اندر سے کھائے جا رہا تھا۔لوگ کتنا انجان ہوتے ہیں نا ہماری حالت سے ؟؟صرف ہماری اداکاری دیکھتے ہیں وہ ہمارے اندر سے اتنا بے خبر کیوں رہتے ہیں؟؟وہ ہمیں بولتا سنتے ہیں مگر ہماری خاموشی کا کیا؟وہ ہماری مسکراہٹ دیکھتے ہیں مگر ہمارے آنسوؤں کا کیا؟وہ ہمارا لہجہ دیکھتے ہیں مگر ہمارے لفظوں کی بے ترتیبی کیوں نہیں سمجھتے؟کرن آنٹی اس سے باتیں کر رہی تھیں۔دادی بھی سفر کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔عمارہ چچی میرال سے کھانے کا پوچھ رہی تھیں۔وہ سب میرال کی فیملی سے زیادہ اریزا کا خاندان لگ رہے تھے۔ اریزا تم تھک گئی ہوگی جا کر آرام کر لو ۔ویسے بھی صبح عید ہے یہ نا ہو کہ تم تھکن سے بیمار ہو جاؤ۔نمرہ چچی اریزا کو اس کے کمرہ میں چھوڑ کر کچن کی طرف بڑھ گئی تھیں۔گھر میں داخل ہو تو ایسا لگے کہ کسی حسین اور پر سکون آشیانہ میں آئے ہو۔گھر وسیع تھا ایک محل جیسا۔جس کی دیواریں سفید رنگ سے ڈھکی تمہیں سحر میں مبتلا کریں گی۔سبزہ زار سے آگے بڑھ کر جب گھر میں داخل ہوں تو سامنے لانچ میں ایک ڈائٹننگ ٹیبل نظر آئے گی ۔جو ویران لگتی تھی۔لانچ میں دو کمرے دائیں جانب اور ایک کمرہ بائیں جانب تھا۔تھوڑے سے فاصلے پر ایک ڈرائنگ روم تھا ۔جس کے ساتھ سے سیڑھیاں دوسری منزل تک جاتی تھی۔اور سیڑھیوں کی دوسری جانب ایک عالیشان کچن تھا۔ دوسری منزل پر دو کمرے امنے سامنے تھے ۔گھر کافی خوبصورت تھا۔ملازمین کاموں میں مشغول تھے۔فیصل آباد میں رات کا اندھیرا چاروں اور پھیل چکا تھا۔آئمہ گھر آچکی تھیں۔گھر میں داخل ہوئیں۔ابان صاحب کہاں ہیں؟؟انھوں نے عیسٰی سے پوچھا تھا ۔وہ اوپر اپنے کمرے میں ہیں میم۔اوکے۔اب کے وہ اوپر کمرے کی طرف جا رہی تھیں۔اگر غور کیا جائے تو وہ لگ بھگ چھتیس سال کی تھیں۔دبلی جسامت، مناسب قد ،صاف رنگت ،بال ہلکے بھورے تھے۔نوک کر کے وہ کمرے میں داخل ہوئیں۔کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا۔کمرے کی ساری لائٹس بند تھیں۔اور وہ ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ٹانگیں اکٹھی کر کے سینے سے لگا رہی تھیں۔سر ٹانگوں پر گرئے وہ اپنے گرد بازوں حائل کیے ہوئے تھا۔انھوں نے لائٹس آن کیں۔کمرا روشن ہوا۔ہر طرف چیزیں بکھری تھیں۔ملازمین صفائی کے لیےآتے مگر وہ انھیں منع کر دیتا تھا۔وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتں اس کے پاس آ کر بیٹھیں۔وہ ان سے لپٹ گیا اور انھوں نے اس کے گرد بازو حائل کر لیے۔ابان تم کب تک ایسے رہو گے ۔باہر نکلو دیکھو دنیا کتنی بڑی ہے۔تم نے کیوں خود کو اس کمرے میں قید کر رکھا ہے۔پھوپھو کل عید ہے ۔ماں بابا کو گئے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں ۔اس کی آواز زکام زدہ تھی اورآنکھیں سرخ شاید وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے مسلسل روئے جا رہا تھا۔بھلا مرد بھی روتے ہیں کیا ؟؟ دل تو سب کے پاس ہوتا ہے نا۔بیٹا میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔پلیز تم ایسے مت روؤ۔پھوپھو مجھے درد ہورہا ہے ۔ماں بابا مجھے کیوں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔جانے والے چلے جاتے ہیں مگر جو پیچھے رہ جاتے ہیں ان کا کیا؟؟اچھا چلو رونا بند کرو اٹھو ہم کھانا کھاتے ہیں۔ پھوپھو مجھے بھوک نہیں ہے۔تم کیا چاہتے ہو میں بھی بھوکی رہوں۔اچھا آپ جائیں میں آتا ہوں۔اوکے لیکن جلدی۔جی آتا ہوں۔وہ ڈائٹننگ ٹیبل پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھیں ۔وہ سیڑھیاں اترتا ان کی طرف آرہا تھا۔ ملازمین کھانا لگا چکے تھے ۔وہ دونوں کھانا کھا رہے تھے۔سمینہ خالہ کی کال آئی تھی۔ وہ اسے بتا رہی تھیں۔کیا کہ رہی تھیں؟وہ عید کی مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکیں گی۔مطلب نانو نہیں آئیں گی؟؟ہاں مگر وہ چاہتی ہیں کہ ہم عید پر ان کے پاس آجائیں۔ٹھیک ہے ۔کب جانا ہے؟ کل صبح عید نماز کے بعد۔وہ اب کے آٹھ کھڑا ہوا ۔اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔وہ اسے جاتا دیکھ رہی تھیں ۔وہ کتنی آسانی سے مان گیا تھا۔وہ رات کے اس پہر ایک سنسان سڑک پر کیا کر رہا تھا۔اسے اکیلے رات کے اس پہر واک کرنا پسند تھا۔وہ سڑک کے کنارے بیٹھا تھا ۔کہیں دور کچھ گارڈز کھڑے تھے۔اس کے ذہن میں ایک چہرا چمکنے لگا تھا۔وہ حسین تھی۔اور معصوم بھی۔اسے اس لڑکی کی بھوری آنکھیں بہت پسند تھیں۔آخر کون تھی وہ لڑکی؟ہارون سر رات بہت ہو گئی ہے گھر چلیں؟؟وہ اس کا سب سے وفادار آدمی تھا۔ہاں داؤد چلو چلتے ہیں۔وہ جا چکا تھے۔اور ہوائیں اسے جاتا دیکھ رہی تھیں۔وہ آخر کون تھا؟؟میروں کی حویلی میں آؤ تو چاروں اور سناٹا پھیلا تھا۔شاید سب سو چکے تھے۔حویلی وسیع تھی۔کسی پورانے محل جیسی۔لیکن اگر تمہیں پورانی عمارتیں پسند ہیں تو بلاشبہ تمہیں یہ حویلی پسند آئے گی۔حویلی میں داخل ہو تو ایک وسیع سبزہ زار پر چند بینچ پڑے دکھائی دیں گے ۔گھر میں ایک ایسی جگہ تو ہونی چاہیے نا کہ جب تمہارا دم گھٹنے لگے تو تم کھلی فضا میں جا کر سانس لے سکو۔سب سو چکے تھے مگر وہ ۔وہ رات کے اس پہر جاگ رہی تھی ۔کیا اسے ڈر نہیں لگتا تھا اس پہر درختوں کے پاس بیٹھنے سے۔شاید وہ عمر کے اس حصہ میں تھی جہان اسے انسانوں سے ڈر لگتا تھا ،جن بھوتوں سے نہیں۔میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔یہ وہ سطر تھی جو رات کے اس پہر اس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔میرال پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گا؟یہ منت تھی یا دلائل۔یہ لفظ اس کی سماعتوں میں گونج رہے تھے۔اور اس کا دم گھٹ رہا تھا۔اکثر دونوں کردار مخلص ہوتے ہیں ایک دوسرے سے مگر حالات دھوکہ دے جاتے ہیں۔وہ بینچ سے اٹھ کر سبزہ زار پر ٹہلنے لگی تھی۔شاید آج کی رات ایسے ہی بیت جائے گی۔ کیا تمہیں یہ میرال اس میرال سے مختلف نہیں لگتی جسے ہم نے کہانی کے آغاز میں دیکھا تھا؟فجر ہو چکی تھی ۔اور آج مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔عیدالفطر کا دن۔تمام لوگ فجر کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد آچکے تھے۔ آج مسجد میں معمول سے زیادہ رش تھا۔پر وہ آج بھی پہلی صف میں کھڑا تھا۔جانتے ہو مرد حسین اور وفادار کب لگتا ہے؟؟ جب وہ اپنے رب سے وفاداری نبھائے۔ نمازِ فجر ہو چکی تھی۔امام صاحب آج مسلمانوں کی تعداد دیکھ کر بہت خوش تھے۔لوگ اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔وہ امام صاحب کے قریب آکر کھڑا ہوا۔وہ بھی اس کے منتظر تھے انھوں نے اسے گلے لگایا وہ جانتے تھے کہ آج وہ حد سے زیادہ غمگین ہوگا۔وہ اسے بچپن سے جانتے تھے ۔وہ اس کی طبیعت سے واقف تھے۔وہ رو رہا تھا آخر وہ اتنا کیوں روتا تھا؟جانتے ہو جب دل پر بوجھ ہو نا تو رونا آہی جاتا ہے۔کیا اس کے دل پر بھی کسی چیز کا بوجھ تھا؟ انھوں نے اسے چپ کروایا۔اب کے وہ اسے گھر جانے کی تاکید کر رہے تھے ۔اور وہ جا رہا تھا۔گھر آیا آئمہ اس کا انتظار کر رہی تھیں۔وہ گھر میں داخل ہوا تو وہ اس کے قریب آ کر کھڑی ہوئیں۔تم ابھی آرام کر لو تمہارے کپڑے تیار ہیں ۔شاور لے کر چینج کر لینا ۔تمہیں عید نماز بھی تو پڑھنے جانا ہے ۔اس نے محض سر ہلایا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔وہ اس کے لیے پریشان تھیں آخر وہ کب تک ایسے رہے گا؟فیصل آباد سے لاہور تک کی ہوائیں عید مبارک کہتی سنائی دے رہی تھیں۔میروں کی حویلی میں بھاگ دوڑ کا سماں تھا۔نمرہ میرے کپڑے کہاں ہیں؟احمد وہاں ہی رکھے تھے غور سے دیکھیں نا۔عمارہ میری گھڑی نہیں مل رہی کہاں رکھ دی تم نے؟وہاب بیڈ کے پاس والے دراز میں رکھی ہے ۔کرن میٹھا بن گیا؟یوسف آپ سب ڈائٹننگ پر بیٹھیں ،ہم میٹھا لاتے ہیں۔گھر کے تینوں سربراہان تیار ہو کر بیٹھے تھے ۔اماں جان سربراہی کرسی پر بیٹھی تھیں ۔مراد ،حسن اور باسط وہ تینوں بھی ڈائٹننگ پر بیٹھے تھے۔زمل اور سحر بھی وہی موجود تھیں۔میرال ابھی اٹھی تھی۔اریزا کرن کا کام میں ہاتھ بٹا رہی تھی۔گھر کے سارے مرد عید نماز کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔عیدیں چاہے جیسی بھی ہوں عید نماز پہلے جیسی ہی ہوتی ہے۔ وہ عید نماز پڑھ کر لاہور روانہ ہو چکے تھے۔وہ سفید قمیض شلوار میں ملبوس تھا ۔بال جل کے ساتھ اچھے سے سیٹ کیے ہوئے تھا۔ہاتھ میں ایک قیمتی گھڑی پہن رکھی تھی۔وہ کتنا خوبصورت تھا لگتا تھا۔گاڑی میں بیٹھی آئمہ اسے دیکھ کرمسرور ہو رہی تھیں۔وہ کتنا حسین لگتا تھا؟؟اسے حسن پر دسترس تھی شاید۔اور ہوائیں اس کے اس روپ پہ ناز کرتی دکھائی دیتی تھیں۔آج لاہور میں الگ ایک دھن تھی۔میروں کی حویلی میں تیاریاں چل رہی تھیں۔وہ سب اس کا انتظار کر رہے تھے۔وہ سب کا لاڈلا تھا۔ابان میر ،اسے اپنے نام کے ساتھ میر وراثت میں ملا تھا۔اس کے والد عثمان میر اور والدہ سارہ عثمان میر آپس میں خالہ ذاد کزنز تھے ۔سارہ میر سمینہ خالہ کی اکلوتی بیٹی تھیں۔احمد،وہاب اور یوسف ابان کے ماموں تھے ۔میرال ،زمل اس کی ماموں زاد کزنز تھیں۔مراد ،حسن اور باسط اس کے ماموں زاد بھائی تھے۔سحر باسط کی بیوی ہے سو اس رشتے سے وہ ابان کی بھابھی لگتی تھی۔تمہیں یاد ہے کہ ہم نے میروں کی حویلی کے سامنے حاکم ہاوس دیکھا تھا۔تمہیں نہیں لگتا اب اس کا دورہ کرنے کا وقت آگیا ہے؟ یہ گھر کوئی عام گھر نہیں تھا اس گھر میں راز دفن تھے۔وہ ایک پراسرار گھر تھا۔وہاں کے لوگ اچھے تھے مگر فقط ظاہری طور پر ۔میروں کی حاکموں سے گہری دوستی تھی۔دوستی!یہ دنیا کا سب سے بہترین رشتہ ہے۔اگر دونوں دوست مخلص ہوں ایک دوسرے سے۔دوستی ساری عمر چلائی جا سکتی ہے اگر تمہیں دوستی نبھانا آتی ہو۔ہمارے پاس کم از کم ایک دوست تو ایسا ہونا چاہیے نا جس پر اندھا اعتبار ہو ۔جس کے مشورے مخلص ہوں۔جو صرف دوست ہو دوست کی کھال میں دشمن نہیں۔حاکموں کے گھر میں عید تھوڑی ادھوری ادھوری تھی کیوں کے ابھی تک وہ نہیں آیا تھا۔ادھر میروں کی حویلی میں عید کا جشن عروج پر تھا ۔ابان میر کی آمد ہو چکی تھی۔سب اسے گلے لگا رہے تھے ۔ماموں اس کے بھائی وہ سب کا لاڈلا تھا ۔ابان بھائی آپ کتنے عرصے بعد آئے ہیں ۔میرال اس کے پاس کھڑی اس سے سوال پوچھ رہی تھی یا شاید شکوہ کر رہی تھی۔وہ اسے دیکھے گیا مگر جواب نہیں دے سکا ۔وہ کتنی بڑی ہو گئی تھی نا ۔ابان کی دوست ،اس کی چھوٹی بہن ،اس کی راز دار ۔شاید وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے راز دار تھے۔مگر یہ دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مدھم پڑ گئی تھی۔جب دوستوں سے دوری ہونے لگے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے نا۔زمل تم کیسی ہو ؟اب کے وہ اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔اور وہ دور کھڑی جانے کن خیالوں میں تھی۔میں ،میں ٹھیک ہوں۔وہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔شاید وہ اس کا حقیقت میں ملانا برداشت نہیں کر پارہی تھی۔یہ کتنا عجیب احساس تھا نا ۔اریزا اپنے ایک کام سے باہر گئی ہوئی تھی۔سو اس وقت ان کی ملاقات ممکن نہیں تھی۔اب کے سب کھانے سے فارغ ہو چکے تھے۔وہ سب اماں جان کے کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ابان ان کے پاس بیٹھا تھا اس وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھیں۔انھیں اس سے اپنی بیٹی کی مہک آتی تھی۔اور وہ ان میں ماں کا عکس دیکھتا تھا۔یہ دادا ،دادی ،نانا ،نانی یہ کتنے پیارے رشتے ہوتے ہیں۔مراد ،حسن اور باسط بھی وہی موجود تھے۔انہوں نے سیرو تفریح کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ابان کیا تم ہمارے ساتھ چلو گے؟مراد امید بھرے تاثرات لیے پوچھ رہا تھا۔ہاں چلوں گا۔وہ اپنے بھائیوں کو انکار نہیں کرتا تھا۔آئمہ اسے دیکھ حیران رہ گئیں کیا یہ وہی ابان تھا جو کمرے سے باہر بھی نہیں نکلتا تھا۔انھیں ترکیب مل گئی تھی ،انھیں اس کے زندگی کی طرف لوٹ آنے کی امید مل گئی تھی۔اور امیدیں بے مقصد نہیں ہوتیں۔وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ باہر چلا گیا۔امید ہے کہ ہم ابان میر کا ایک نیا روپ جلد دیکھیں گے۔آمد ہو چکی تھی ۔حاکم ہاؤس چہک اٹھا تھا۔وہ آگیا تھا ۔کیا وہ زخم پھر سے ہرے کرنے آیا تھا۔ہم جن لوگوں کے کبھی واپس نہ آنے کی دعائیں کرتے ہیں وہ اکثر واپس آجاتے ہیں ۔اور ان کا آنا ہمیں ماضی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔اور ماضی کے اندھیروں میں دم گھٹتا ہے۔حاکموں کا وارث ،ان کا اکلوتا چشم و چراغ۔اس کے آنے سے حاکم ہاؤس میں عجیب سی خوشی پھیل گئی تھی۔نازیہ اپنے بیٹے کے صدقے واری جارہی تھیں۔ماؤں کا کیا ہے وہ تو اپنے بیٹوں کو فرشتہ سمجھتی ہیں چاہے ان کا بیٹا ابلیس ہی کیوں نا ہو۔ارباب حاکم کی خوشی کی بھی کوئی انتہا نہیں تھی۔وہ ان کے پاس بیٹھا تھا اور وہ اس میں اپنا عکس دیکھ رہے تھے۔کیا عکس اتنا برا ہوتا ہے؟میرا بیٹا جاؤ تھوڑا آرام کر لو تھک گئے ہو گے ۔وہ اسے تاکید کر رہے تھے۔جی بابا !اور وہ ان حکم کی تکمیل کر رہا تھا۔وہ کتنا اچھا اور تابع دار بیٹا تھا۔وہ اپنے کمرے میں آچکا تھا۔صوفے پر بیٹھا ۔فون کی سکرین روشن کی۔نوٹیفیکیشنز کا انبار لگا تھا۔لوگ کتنی باتیں کرتے تھے نا اس سے اور وہ انھیں اپنے لفظوں کے جال میں پھنسانے کا ہنر رکھتا تھا ۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس آیپ کو پہلے کھولے۔وٹس آیپ کھولا کئی پیغامات مگر ان سب میں اس کا نوٹیفیکیشن نہیں تھا ۔کیا وہ اس کا پسندیدہ نوٹیفیکیشن تھا یا اس نوٹیفیکیشن کی عادت تھی اسے۔خیر وہ جانتا تھا کہ وہ اب کبھی اس سے بات نہیں کر پائے گا۔وہ کبھی اس سے بات نہیں کرے گے وہ کبھی دوبارہ اس کے پاس نہیں آئے گی ۔وہ اسے کھو چکا تھا وہ اعتبار توڑ چکا تھا ۔کیا ہم کبھی اعتبار توڑنے والوں کو معاف کر سکتے ہیں ؟ اسے پچھتاوا ہوا تھا مگر صرف کچھ لمحوں کے لیے ۔اور وہ صوفے سے آٹھ کر بیڈ پر جا کر لیٹ چکا تھا۔اسے نیند آرہی تھی اور وہ دس منٹ بعد اندھیرے کی آغوش میں جا چکا تھا۔دیکھو تو جانو کہ نیند ہر چیز سے فرار کا بہت اچھا راستہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔