کتاب ایک جستجو ہے

تحریر۔فخرالزمان سرحدی ہری پور

پیارے قارئین !کتاب محض کاغذ پر سیاہی کے چند نشانات کا نام نہیں، یہ انسان کی ازلی جستجو کا تسلسل ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو صدیوں کی تاریکی میں بھی روشنی بانٹتا رہا، وہ آئینہ ہے جس میں فرد اپنی ذات، معاشرہ اپنی ہیئت اور قومیں اپنا مستقبل دیکھتی ہیں۔ماہرین کہتے ہیں” کتاب سوال پیدا کرتی ہے، سوال سے فکر جنم لیتی ہے اور فکر سے راستے بنتے ہیں۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ کتاب ایک جستجو ہے“ سچ کی، معنی کی، اور انسان ہونے کے شعور کی۔

انسان کو علم کی دولت سے رب کریم نے سرفراز فرمایا۔قرآن مجید عظیم کتاب ہے یہ علم کا خزانہ ہے۔ماہرین تو کہتے ہیں” ہر کتاب اپنے قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے؛ کہیں وہ ماضی کی گہرائیوں میں اترتا ہے، کہیں مستقبل کی جھلک دیکھتا ہے، اور کہیں حال کے پیچیدہ سوالات سے دوچار ہوتا ہے“ یوں کتاب قاری کے اندر مسلسل تلاش کا عمل زندہ رکھتی ہے۔

کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خاموش ہو کر بھی بولتی ہے۔ یہ نہ آواز بلند کرتی ہے، نہ اصرار؛ بس کھلی رہتی ہے، اور جو قریب آ جائے، اس کے دل و دماغ میں سوالات جگا دیتی ہے۔ ایک اچھی کتاب قاری کو جواب کم اور سوال زیادہ دیتی ہے، کیونکہ اصل تربیت سوال پوچھنے سے ہوتی ہے۔ یہی سوال فرد کو تعصب سے نکال کر تحقیق کی راہ پر ڈالتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں کتاب سے دوری محض عادت کی تبدیلی نہیں، فکری کمزوری کی علامت بھی ہے۔ اسکرین کی چکاچوند نے آنکھوں کو مصروف کر دیا ہے مگر ذہن کو مطمئن نہیں کیا۔ فوری معلومات کے سیلاب میں گہرے مطالعے کی پیاس کہیں دب گئی ہے۔ حالانکہ کتاب وقت مانگتی ہے، توجہ مانگتی ہے، اور بدلے میں گہرائی عطا کرتی ہے۔ یہ گہرائی ہی انسان کو سطحیت سے بچاتی ہے۔

تعلیم گاہوں میں نصاب کی کتابیں ضروری ہیں، مگر زندگی کی کتابیں ناگزیر ہیں۔اسلام٬تہذیب و تمدن، ادب، تاریخ، فلسفہ اور سوانح ،یہ سب انسان کو انسان سے جوڑتی ہیں۔، ایک تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ غلطیاں دہرانے سے بچا جا سکتا ہے، اور ایک سوانح ہمیں ہمت دیتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، راستہ نکل آتا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ”

کتاب کا رشتہ صرف فرد سے نہیں، قوم سے بھی ہے“ جن معاشروں نے کتاب کو مرکز بنایا، انہوں نے علم کی بنیاد پر ترقی کی۔ جہاں کتاب کو حاشیے پر دھکیلا گیا، وہاں سوچ سمٹتی گئی۔ کتابیں جلانا یا ان سے بے نیازی اختیار کرنا دراصل مستقبل کے دریچے بند کرنے کے مترادف ہے۔ ایک قوم کی لائبریریاں اس کے ذہنی قد کا اندازہ دیتی ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کتاب کو پھر سے زندگی میں جگہ دیں۔بطور تحفہ، بطور دوست، بطور رہنما۔ بچوں کے ہاتھ میں موبائل کے ساتھ کتاب بھی ہو، گھروں میں کتاب سے محبت کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے، مطالعہ کی دعوت دینا تو اہم پہلو ہے، تعلیمی اداروں میں امتحان سے آگے سوچنے کی حوصلہ افزائی ہو۔ کتاب پڑھنا کوئی شوق نہیں، یہ ذہنی صحت کی ضرورت ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کتاب منزل نہیں، سفر ہے۔ یہ ہمیں مکمل نہیں کرتی، بلکہ مکمل ہونے کی خواہش عطا کرتی ہے۔ جو قومیں اس جستجو کو زندہ رکھتی ہیں، وہی وقت کی کسوٹی پر پورا اترتی ہیں۔ کتاب ایک جستجو ہےاور جستجو زندہ دلوں کی پہچان ہے۔