۲:۱۷
رات کے ۲ بج کر ۱۷ منٹ پر
میرے گھر میں کوئی چائے بناتا ہے۔
مجھے یہ اس لیے معلوم ہے
کیونکہ میں اس آواز سے جاگ جاتا ہوں۔
پہلے ہلکی سی کلک۔
پھر پانی کے گرم ہونے کی آہستہ سی سرگوشی۔
اور آخر میں
کیتلی کی وہ آواز
جو خاموشی کو کاٹ دیتی ہے۔
پہلے پہل میں نے اسے نظر انداز کیا۔
پرانے گھروں میں آوازیں عجیب طرح سے سفر کرتی ہیں۔
دیواریں کبھی کبھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔
پائپ ایسے بولتے ہیں جیسے ان میں کوئی پرانی یاد پھنس گئی ہو۔
میں نے خود سے کہا:
“شاید پڑوسی ہوں گے۔”
لیکن مسئلہ یہ تھا
کہ میرے پڑوسی بوڑھے تھے
اور وہ رات دس بجے کے بعد
زندگی سے بھی سونے لگتے تھے۔
پھر ایک رات
میں جاگ گیا۔
صرف جاگا نہیں۔
میں نے فیصلہ کیا
کہ آج دیکھوں گا
کہ میرے گھر میں چائے کون بناتا ہے۔
کمرے سے باہر نکلا
تو راہداری میں اندھیرا تھا۔
وہ عام اندھیرا نہیں
جو صرف روشنی کی کمی سے بنتا ہے۔
یہ وہ اندھیرا تھا
جو کسی انتظار میں ہو۔
میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا
کچن تک پہنچا۔
اور تب میں نے دیکھا۔
کیتلی پہلے ہی چولہے پر تھی۔
پانی ابلنے کے قریب تھا۔
اور کاؤنٹر پر رکھا کپ
میرا تھا۔
نیلا کپ۔
وہی کپ
جس کے کنارے سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا ٹوٹا ہوا ہے۔
میں نے کبھی اسے پھینکا نہیں۔
کچھ چیزیں
ان کے ٹوٹنے کے بعد
زیادہ اپنی لگتی ہیں۔
چائے بن رہی تھی۔
لیکن کچن میں
کوئی نہیں تھا۔
میں نے پورے گھر میں دیکھا۔
دروازے بند تھے۔
کھڑکیاں بند تھیں۔
اور گھر میں
میرے علاوہ
کوئی نہیں تھا۔
پھر بھی
چائے بن چکی تھی۔
کپ سے بھاپ اٹھ رہی تھی
جیسے کوئی خاموش راز
ہوا میں لکھا جا رہا ہو۔
لیکن عجیب ترین چیز
چائے نہیں تھی۔
عجیب ترین چیز
کرسی تھی۔
وہ ابھی تک گرم تھی۔
اس رات
میں نے چائے نہیں پی۔
میں نے اسے ویسے ہی چھوڑ دیا۔
جیسے کوئی سوال
جس کا جواب سننے کی ہمت نہ ہو۔
صبح میں نے فیصلہ کیا
کہ اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔
پچھلے سال ایک چوری کے بعد
میں نے کچن میں سیکیورٹی کیمرہ لگایا تھا۔
میں نے ریکارڈنگ کھولی۔
وقت آگے بڑھایا۔
۲:۱۶
کچن خالی تھا۔
۲:۱۷
کچن کی لائٹ جل گئی۔
لیکن
کوئی اندر نہیں آیا۔
کیتلی ہلکی سی ہلی۔
کپ الماری سے نکلا۔
اور کاؤنٹر پر رکھا گیا۔
میں اسکرین کے سامنے
سانس روک کر بیٹھا تھا۔
پھر
۲:۱۸ پر
کیمرے نے کسی کو دیکھا۔
کوئی کچن سے باہر جا رہا تھا۔
وہ دھندلا سا تھا۔
لیکن اتنا واضح
کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی اتر گئی۔
کیونکہ
وہ چہرہ
میرا تھا۔
اس رات کے بعد
میں نے سونا چھوڑ دیا۔
کیونکہ مجھے ایک بات سمجھ آگئی تھی۔
مسئلہ یہ نہیں تھا
کہ میرے گھر میں کوئی ہے۔
مسئلہ یہ تھا
کہ شاید
وہ میں ہی ہوں۔
لیکن اگر وہ میں ہوں
تو پھر
رات کے ۲:۱۷ پر
بستر میں کون سوتا ہے؟