____________________________________________
اس ناول کو پڑ کر جو کردار آپ کو اچھا لگے ضرور بتائے گا ایک اور بات اگر آپ کو ہمارا ناول یعنی کہانی اچھی لاگے تو بتائے گا ضرور تا کے مجھے لکنے میں اور بھی دلچسپی ہو ناول ریڈر کی نیوں رائٹر زینوں خان
,__________________________________________,
رات کے 3:11 بج رہے تھے کے رنگ ٹون کی آواز پے اس کی آنکھیں کھولی پہلے تو حیران ہوی کے اس ٹائم اسے کون کال کر سکتا ہے لیکن جب اس نے سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھا اس پر شاہزین کا نمبر جگمگارہا تا شاہزین کی اس ٹائم کال دیک کر اسے کچھ یاد آیا مینال نےجلدی سے شاہزین کی واٹسیپ چاٹ کولی تو اس کے چہرے کے رنگت بدل گئی ایکدم اس کے چہرے پے زردی چاگئ وہ ایکدم اپنا گرم گرم بیڈ چھوڑ کر اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھی اور راہ فرار تلاشنے لگی ۔اگر میں کڑکی سے جاؤنگی دروازے پے گارڈ کڑے ہے وہ شک میں پڑ جائینگے اگر دروازے سے جاؤنگی تو امی کا روم راستے میں ہی ہے اگر اٹھ گئی تو وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کے ایک بار پر اس کے موبائل پے شاہزین کی کال آئی اس بار مینال نے کال پیک کرنے میں دیر نا لگائی اور پہلی ہی رنگ ٹون میں کال پیک کر لی لیکن کچھ نا بولی کچھ دیر کے لیے مینال کو اپنی سانسے اٹھکتی محسوس ہوی دڑکن اسے اپنے کانوں میں سوناۓ دینی
(01)
لگی کچھ دیر یو ہی خاموشی تھی دونوں طرف مسلسل خاموشی سے اکتا کر دوسرے جانب کے ماتے پر بل پڑ گۓ اور ناگواریات سے بولا کچھ بولو گی بھی یا ایسے ہی اپنے بھائی کے مرنے کا انتظار کرو گی
*__________________________________________*
شاباس بیٹا شاباش ایسے ہی سو سو کر تم آرمی ڈاکٹر بنوں گی ہے نا میسس آئمہ شاہ آنیکا کو ایسے سوتے دیکھ کر اس کا پارا ہائ ہو گیا اور ٹنڈے پانی کا گلاس بھر کر آنیکا کے چہرے پر انڈیل دیا
What the hell mom
انیکا جو خواب خرگوش کی نیند سوئ آرام کر رہی تھی اچانک اپنے چہرے پر ٹنڈا پانی محسوس کر کے چلا اُٹھی ۔چپ ایک دم چپ ابھی اگر توڑی اور بدتمیزی کی مجھ سے تو میں اور کچھ نہیں کرونگی تمہیں گلز ہاسٹل بیجھ دونگی پر تمہیں پتا چلے گا جب وہا صبح سویرے اُٹھائنگے اور سارا کام خود کرنا پڑے گا تب تمہیں پتا لگے گا مسس شاہ بیٹھی کی بدتمیزی دیکھ کر اسے اور بھی غصہ چڑ گیا اور بیٹی کو اس بدتمیزی
(02)
پر جڑک دیا آنیکا جو ہمیشہ پیار کی آدی تی کیونکہ اکلوتی جو تی نہ اس کا کوئ بھائ تا نا بہن آج ماں کا توڑا سا سخت رویا دیک کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی مسس شاہ اس مکار لڑکی کے ڈرامے کو دیک کر سر پیٹنے لگی کیو کے اب زیاد شاہ سے اس کی شامت جو آنی تھی اپنی مکار بیٹی کی وجہ سے اتنے میں زیاد شاہ جو نیچے لاونج میں بیٹھ کر فون پے دوسری جانب سے مخاطب تے اپنی اکلوتی جان سے عزیز بیٹھی کو یو روتے سون کر باگ کر بیٹی کر روم میں آیا اور سیدہ بیٹی کے پاس جا کر آنیکا کو گلے لگا کر پوچھا میری گھڑیا کو کیا ہوا ہے کیو رو رہی ہے کس نے ہرٹ کیا میری بیٹی کو تب ہی آنیکا شاہ نے اپنی آنسوں سے بھری آنکھیں اپنی ماہ یانی آیمہ شاہ کی طرف آٹھائ
زیاد شاہ نے بیٹی کی آنکھوں کی اطراف میں دیکھا تو واہا اس کی ہمسفر ہر دکھ درد کی ساتھی آیمہ شاہ کڑی تھی
*_______________________________________*
(03)
𝗔𝗿𝗲 𝘆𝗼𝘂 𝘀𝘂𝗿𝗲
کے یے وہی لڑکا ہے جس نے آپکے بھائی سے چھوری کی ہے
𝗭𝗼𝗵𝗮𝗻صدمے کی کیفیت میں اپنے بھائی کو دیک رہا تا کے ایسا دن بھی آۓ گا کے اس کا اپنا بھائ چوری کرے