بالکل، یہ رہے کورس 407 (بہار 2020) کے تمام 14 سوالات کے مکمل، امتحانی جوابات — ایسے لکھے گئے ہیں کہ آپ انہیں پیپر میں 3-4 صفحات میں آسانی سے پھیلا سکیں۔ (انداز AIOU کا ہے: تعارف، ہیڈنگز، نکات، نتیجہ)
---
### 1. سلطنت عثمانیہ کے زوال کا تفصیلی اسباب کا جائزہ پیش کریں۔
تعارف: سلطنت عثمانیہ 600 سال تک تین براعظموں پر قائم رہی لیکن 20ویں صدی کے آغاز میں ختم ہوگئی۔ اس کے زوال کی ایک نہیں، کئی وجوہات تھیں۔
اسباب:
1. سیاسی اسباب: بعد کے سلاطین نااہل اور عیش پرست تھے۔ حرم کی سازشوں نے انتظامیہ کو کمزور کیا۔ مرکزی حکومت کا کنٹرول صوبوں پر ختم ہو گیا اور مقامی پاشا خود مختار ہو گئے۔
2. فوجی اسباب: ینی چری دستہ جو سلطنت کی ریڑھ کی ہڈی تھا، کرپٹ ہو گیا۔ وہ بغاوتیں کرنے لگا اور جدید ہتھیار اپنانے سے انکار کیا۔ یورپ نے بندوق اور توپ میں ترقی کی جبکہ عثمانی فوج پرانے طریقوں پر رہی۔
3. معاشی اسباب: یورپ میں صنعتی انقلاب آیا، نئی تجارتی راہیں (کیپ آف گڈ ہوپ) دریافت ہوئیں جس سے عثمانی تجارتی اجارہ داری ختم ہو گئی۔ سلطنت یورپی بینکوں کی مقروض ہو گئی اور "کیپچولیشنز" کے تحت یورپیوں کو تجارتی مراعات دینی پڑیں۔
4. قوم پرستی: بلقان، عرب اور دیگر اقوام میں قوم پرستی کی لہر اٹھی۔ یونان (1821)، سربیا، بلغاریہ آزاد ہو گئے۔ عربوں نے پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کا ساتھ دیا۔
5. بیرونی مداخلت: روس، برطانیہ اور فرانس نے "مرد بیمار یورپ" (Sick Man of Europe) کہہ کر سلطنت کے علاقے آپس میں بانٹنے کی کوشش کی۔ کریمیا جنگ، بلقان جنگیں اس کی مثال ہیں۔
نتیجہ: اندرونی کمزوری اور بیرونی دباؤ نے مل کر 1924 میں خلافت کے خاتمے پر سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔
### 2. لیبیا کا تاریخی پس منظر، معیشت اور خارجہ پالیسی
تاریخی پس منظر: لیبیا صدیوں عثمانی سلطنت کا حصہ رہا۔ 1911 میں اٹلی نے قبضہ کر لیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1951 میں ادریس سنوسی کی بادشاہت میں آزاد ہوا۔ 1969 میں کرنل معمر قذافی نے فوجی انقلاب سے بادشاہت ختم کی اور "جماہیریہ" قائم کی۔
معیشت: لیبیا کی معیشت 90% تیل اور گیس پر منحصر ہے۔ قذافی دور میں تیل کی آمدنی سے مفت تعلیم، علاج اور سبسڈی دی گئی لیکن معیشت میں تنوع نہ ہونے سے عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا شدید اثر پڑتا ہے۔
خارجہ پالیسی: قذافی کی پالیسی انقلابی تھی۔ اس نے عرب اتحاد (مصر، شام، تیونس سے اتحاد کی کوششیں)، افریقی اتحاد (افریقی یونین کا حامی) پر زور دیا۔ امریکہ اور مغرب سے لاکربی طیارہ حادثے کے بعد سخت کشیدگی رہی، پابندیاں لگیں۔ 2003 کے بعد تعلقات بہتر ہوئے لیکن 2011 کی عرب بہار میں نیٹو مداخلت سے حکومت ختم ہو گئی۔
### 3. پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اور اتحاد اسلامی میں کردار
تعلقات: دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد اسلام ہے۔ سعودی عرب حرمین شریفین کا محافظ ہے، اس لیے پاکستان کے عوام میں اس کا خاص احترام ہے۔
شعبہ جات: 1) مذہبی: حج و عمرہ، علما کا تبادلہ 2) معاشی: سعودی عرب پاکستان کو تیل ادھار دیتا رہا، قرضے دیے، لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار کرتے ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت میں اہم ہیں۔ 3) دفاعی: فوجی تربیت کا تبادلہ۔
اتحاد اسلامی میں کردار: 1969 میں مسجد اقصیٰ کو آگ لگنے کے بعد دونوں ملکوں نے OIC کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 1974 میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی میزبانی ذوالفقار علی بھٹو نے کی اور شاہ فیصل مہمان خصوصی تھے۔ افغان جہاد (1979-89) میں دونوں نے مل کر مجاہدین کی مدد کی۔
### 4. سوڈان کی جدوجہد آزادی، فوجی انقلاب اور اکتوبر 1964 انقلاب
سوڈان پر برطانیہ اور مصر کی مشترکہ حکومت تھی۔ 1956 میں سوڈان نے پرامن طریقے سے آزادی حاصل کی اور پارلیمانی نظام قائم ہوا۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی نااتفاقی سے ملک میں بدامنی پھیلی۔
1958 میں جنرل ابراہیم عبود نے مارشل لا لگا کر جمہوریت ختم کر دی۔ اس کی آمرانہ حکومت، جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی اور معاشی بدحالی سے عوام تنگ آ گئے۔
اکتوبر 1964 میں طلبہ نے احتجاج شروع کیا جو ملک گیر عوامی تحریک بن گیا۔ "اکتوبر انقلاب" کامیاب ہوا، عبود کو استعفیٰ دینا پڑا اور جمہوریت بحال ہوئی۔ یہ افریقہ میں عوامی طاقت کی ایک بڑی مثال سمجھی جاتی ہے۔
### 5. ایران پاکستان تعلقات، افغانستان میں شاہ کا کردار اور ایران کی خارجہ پالیسی
پاک ایران تعلقات: ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے 1947 میں پاکستان کو تسلیم کیا۔ دونوں RCD (بعد میں ECO) کے رکن بنے۔ شاہ ایران کے دور میں تعلقات بہت اچھے تھے، ایران نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں پاکستان کی مدد کی۔
افغانستان میں کردار: پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن پر ہمیشہ کشیدگی رہی۔ افغانستان پاکستان کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ شاہ ایران نے کئی بار دونوں ممالک میں ثالثی کی کوشش کی۔
ایران کی خارجہ پالیسی: شاہ کے دور میں ایران امریکہ کا اتحادی تھا اور خطے کا "پولیس مین" بنا ہوا تھا۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پالیسی یکسر بدل گئی، "نہ شرقی نہ غربی" کا نعرہ لگا، امریکہ مخالف اور اسلامی انقلاب برآمد کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔
### 6. شاہ فیصل کے دور کے اہم واقعات
شاہ فیصل (1964-1975) کو سعودی عرب کا سب سے مقبول بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔
1) انہوں نے ملک میں جدید تعلیم کو عام کیا، ٹی وی متعارف کرایا (جس پر علما ناراض ہوئے)۔
2) 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں انہوں نے امریکہ اور مغرب پر تیل کی پابندی لگا دی جس سے دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہوا اور عربوں کی عزت بحال ہوئی۔
3) انہوں نے OIC کو فعال کیا اور مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔
4) 1975 میں ان کے بھتیجے نے انہیں قتل کر دیا۔
### 7. مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پس منظر - کیا ناگزیر تھی؟
پس منظر: 1) لسانی مسئلہ: 1952 میں اردو کو قومی زبان قرار دینے پر بنگالیوں نے احتجاج کیا۔ 2) سیاسی محرومی: آبادی زیادہ ہونے کے باوجود اقتدار مغربی پاکستان کے پاس رہا۔ 3) معاشی استحصال: مشرقی پاکستان کی پٹ سن کی آمدنی مغرب پر خرچ ہوتی تھی۔ 4) 1970 انتخابات: شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے کلین سویپ کیا لیکن اسے اقتدار نہ دیا گیا۔ 5) فوجی آپریشن: مارچ 1971 کے آپریشن سرچ لائٹ نے نفرت کو انتہا پر پہنچا دیا۔ 6) بھارتی مداخلت: بھارت نے مکتی باہنی کی تربیت کی اور دسمبر 1971 میں براہ راست حملہ کر دیا۔
تجزیہ: علیحدگی ناگزیر نہیں تھی۔ اگر 1970 کے انتخابات کے نتائج تسلیم کر لیے جاتے اور شیخ مجیب کو وزیراعظم بنایا جاتا تو پاکستان متحد رہ سکتا تھا۔ یہ سیاسی غلطیوں اور فوجی طاقت کے بے جا استعمال کا نتیجہ تھی۔
### 8. اسلامی کانفرنس (OIC) کے قیام کی وجوہات اور کارکردگی
وجوہات: 21 اگست 1969 کو ایک یہودی انتہا پسند نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگا دی۔ اس واقعے نے پوری امت مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ شاہ فیصل اور دیگر مسلم رہنماؤں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کا کوئی مشترکہ پلیٹ فارم نہیں، چنانچہ رباط (مراکش) میں OIC کی بنیاد رکھی گئی۔
مقاصد: مسلم اتحاد، فلسطین کی آزادی، مسلم اقلیتوں کا تحفظ۔
کارکردگی: مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھا اور مسلم دنیا کو ایک فورم دیا۔ منفی پہلو یہ ہے کہ عملی طور پر یہ غیر موثر رہی ہے۔ کشمیر، بوسنیا، روہنگیا جیسے مسائل پر صرف قراردادیں پاس کیں، کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھا سکی۔ رکن ممالک کے آپس کے اختلافات اس کی بڑی کمزوری ہیں۔
### 9. مسلمانوں کی علیحدہ تنظیم کی ضرورت اور قیام پاکستان تک کے واقعات
علیحدہ تنظیم کی ضرورت: 1885 میں کانگریس بنی جو بظاہر قومی جماعت تھی لیکن عملی طور پر ہندوؤں کی نمائندہ تھی۔ 1905 میں بنگال کی تقسیم کے خلاف ہندوؤں کے شدید ردعمل، اردو ہندی تنازع، اور کانگریس کے رویے نے مسلمانوں کو اپنی جماعت بنانے پر مجبور کیا۔ چنانچہ 1906 میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ بنی۔
قرارداد پاکستان تک: 1930 علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد (علیحدہ وطن کا تصور)، 1940 قرارداد لاہور (مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد مملکتوں کا مطالبہ)، 1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی بھاری کامیابی نے ثابت کر دیا کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ کابینہ مشن پلان کی ناکامی کے بعد 3 جون 1947 کو تقسیم ہند کا اعلان ہوا اور 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔
### 10. انڈونیشیا کا تاریخی پس منظر اور تحریک آزادی
انڈونیشیا 350 سال تک ہالینڈ (ڈچ) کی کالونی رہا۔ ڈچوں نے استحصالی نظام قائم کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں 1942 میں جاپان نے ہالینڈ کو نکال کر قبضہ کر لیا۔ جاپانیوں نے آزادی کا وعدہ کیا اور مقامی رہنماؤں سکرنو اور ہٹہ کو تیار کیا۔
جاپان کی شکست کے فوراً بعد 17 اگست 1945 کو سکرنو نے انڈونیشیا کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ ہالینڈ نے دوبارہ قبضے کی کوشش کی، 4 سال جنگ ہوئی۔ بالآخر عالمی دباؤ پر 1949 میں ہالینڈ نے انڈونیشیا کو تسلیم کر لیا۔ سکرنو پہلے صدر بنے۔
### 11. رضا شاہ پہلوی کے خلاف تحریک اور اقتدار کے خاتمے کے اسباب
رضا شاہ پہلوی (شاہ ایران) امریکہ کا اتحادی تھا۔ اس نے "سفید انقلاب" کے نام پر تیزی سے مغربی اصلاحات نافذ کیں:
1) خواتین پر پردے کی پابندی، زمینوں کی اصلاحات (جس سے علما ناراض ہوئے)
2) ساواک (خفیہ پولیس) کے ذریعے بدترین آمریت قائم کی، ہزاروں مخالفین کو قتل کیا۔
3) تیل کی دولت صرف شاہی خاندان اور اشرافیہ پر خرچ ہوئی، عام آدمی غریب رہا۔
ان پالیسیوں سے علما، بازار کے تاجر اور طلبہ سب اس کے خلاف ہو گئے۔ آیت اللہ خمینی کی قیادت میں 1979 میں اسلامی انقلاب آیا، شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اور ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہو گئی۔
### 12. کشمیر میں جدوجہد آزادی اور بھارت کا طرز عمل
کشمیر کی جدوجہد 1931 سے شروع ہوئی جب ڈوگرہ راج کے خلاف 22 کشمیری شہید ہوئے۔ 1932 میں شیخ عبداللہ نے مسلم کانفرنس بنائی۔
1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کیا جسے کشمیریوں نے مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ نے رائے شماری کی قراردادیں پاس کیں لیکن بھارت نے کبھی عمل نہ کیا۔
بھارت کا طرز عمل: کشمیر میں 7 لاکھ فوج تعینات ہے۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں (ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گن کا استعمال)۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی اور اسے براہ راست مرکز کے کنٹرول میں لے لیا گیا۔
### 13. ملائیشیا کی خارجہ پالیسی، معیشت اور پاکستان سے تعلقات
خارجہ پالیسی: ملائیشیا غیر جانبدار اور آسیان کا فعال رکن ہے۔ اس کی پالیسی "سب سے دوستی، کسی سے دشمنی نہیں" ہے۔
معیشت: ملائیشیا نے ربڑ اور پام آئل سے ترقی شروع کی اور اب الیکٹرانکس، سیاحت اور صنعت میں بہت آگے ہے۔ مہاتیر محمد کے دور میں تیزی سے ترقی کی۔
پاکستان سے تعلقات: دونوں برادر اسلامی ملک ہیں۔ مہاتیر محمد پاکستان کے قریبی دوست رہے۔ دفاعی تعاون، طلبہ کا تبادلہ اور تجارت جاری ہے۔ ملائیشیا کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔
### 14. فلسطین کا پس منظر، مسائل اور پاکستان کا موقف
پس منظر: 1917 کے اعلان بالفور میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی ریاست کا وعدہ کیا۔ 1948 میں اسرائیل قائم ہوا اور لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو گئے (نکبہ)۔ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے پورے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔
مسائل: یہودی بستیاں، یروشلم کا تنازع، فلسطینی مہاجرین کی واپسی، غزہ کا محاصرہ۔
پاکستان کا موقف: پاکستان کا موقف دو ٹوک ہے: 1) ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ 2) ہم آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو اور سرحدیں 1967 سے پہلے والی ہوں۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے۔
---
ٹپ: پیپر میں لکھتے وقت ہر جواب میں تعارف، 4-5 ہیڈنگز اور آخر میں نتیجہ ضرور لکھیں۔
کیا آپ کو کسی خاص سوال کا اور بھی زیادہ تفصیلی جواب چاہیے؟