رواداری اور درگزر — معاشرتی حسن کی اصل بنیاد
انسانی معاشرے کی خوبصورتی صرف عمارتوں، سڑکوں یا ترقی کے اعداد و شمار سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہاں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ رواداری اور درگزر وہ اوصاف ہیں جو فرد کو بھی بڑا بناتے ہیں اور معاشرے کو بھی مہذب۔ جہاں برداشت ختم ہو جائے وہاں تعلقات ٹوٹتے ہیں، دلوں میں فاصلے بڑھتے ہیں اور قومیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
آج کا انسان تیز رفتار زندگی میں صبر و تحمل کی دولت کھوتا جا رہا ہے۔ معمولی اختلاف پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، ذرا سی بات پر نفرت جنم لیتی ہے، اور معاف کرنے کی بجائے انتقام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ رویّے صرف فرد کو نہیں جلاتے بلکہ پورے سماج کو اضطراب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
رواداری کا مطلب یہ نہیں کہ غلط کو درست مان لیا جائے، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھا جائے۔ ہر انسان کی سوچ، مزاج اور تجربہ مختلف ہوتا ہے۔ اگر ہم سب ایک جیسے ہوتے تو زندگی بے رنگ ہوتی۔ اختلاف حسن ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ برداشت اور شائستگی موجود ہو۔
درگزر انسان کی عظمت کی علامت ہے۔ طاقتور وہ نہیں جو بدلہ لے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو معاف کر دے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات نے ہمیشہ درگزر کو اپنایا اور دلوں کو فتح کیا۔ جو لوگ معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ان کے دل میں نفرت نہیں ٹھہرتی، اور یہی اندرونی سکون کی اصل کنجی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ، ذاتیات پر حملے، مسلکی اور لسانی تعصبات — یہ سب اسی کمی کی علامات ہیں۔ اگر ہم نے اپنے رویّے درست نہ کیے تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔
تعلیمی اداروں میں بھی رواداری کی تربیت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ بچوں کو نمبر تو سکھائے جاتے ہیں مگر اخلاق نہیں۔ ڈگریاں تو مل جاتی ہیں مگر دل بڑے نہیں بنتے۔ حالانکہ اصل تعلیم وہی ہے جو انسان کو انسان بنائے۔
رواداری گھر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر والدین بچوں کو صبر، برداشت اور احترام سکھائیں تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو سکتا ہے۔ مسجد، مدرسہ، اسکول، میڈیا — سب کو اس فکری تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
قومیں قانون سے نہیں، اخلاق سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر دلوں میں برداشت نہ رہے تو مضبوط قانون بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم درگزر کو کمزوری نہیں بلکہ قوت سمجھیں، اور رواداری کو زبانی نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
جو معاشرے معاف کرنا سیکھ لیتے ہیں، وہ نفرت کے اندھیروں سے نکل کر امن کے اجالوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
فخرالزمان سرحدی
ہری پور