فرزندِ ہزارہ محمد ریاض ملک — فن، قلم اور خدمت کا روشن استعارہ

تحریر: فخرالزمان سرحدی (ہری پور)

سرزمینِ ہزارہ اپنی خوبصورتی، تہذیب اور باکمال شخصیات کے حوالے سے ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ اس دھرتی نے ایسے افراد کو جنم دیا جنہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے ملک میں نام روشن کیا۔ انہی درخشاں ستاروں میں ایک معتبر نام محمد ریاض ملک کا بھی ہے، جو اپنی ہمہ جہت شخصیت کے باعث کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

ضلع ایبٹ آباد کے نواحی علاقے رچھ بہن میں 20 جنوری 1960 کو آنکھ کھولنے والے محمد ریاض ملک نے ابتدائی تعلیم نہایت شوق اور محنت سے حاصل کی۔ 1976 میں میٹرک، 1979 میں گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد سے ایف اے، اور 1982 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے امتیازی حیثیت سے مکمل کیا۔ بعد ازاں 1991 میں ایم اے کر کے علمی سفر کو مزید وسعت دی۔ تعلیم سے محبت اور سیکھنے کا جذبہ ان کی شخصیت کا بنیادی جوہر رہا۔

زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے محض ایک شعبے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اداکاری، ڈرامہ نگاری، صحافت، ادب اور تصنیف جیسے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ فلمی دنیا میں "جمیلہ"، "ساجن کا پیار" اور "دشمن سے ٹکر" جیسی فلموں میں اداکاری کے ذریعے اپنی فنی مہارت کا ثبوت دیا، جبکہ سٹیج ڈراموں کی تحریر اور ہدایت کاری میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

بطور ادیب اور مصنف ان کی تصانیف "چاندنی راتیں"، "کیسی کیسی صورتیں"، "نسخہ ہائے تبسم"، "پربتوں کی چھاؤں میں" اور "طالب بابا" ادبی دنیا کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کی حقیقتیں، جذبات کی گہرائی اور معاشرتی شعور نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

محمد ریاض ملک کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی ادبی بصیرت اور تنقیدی شعور ہے۔ انہوں نے مختلف کتب پر مدلل اور بے لاگ تبصرے کر کے نہ صرف ادب کو فروغ دیا بلکہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ ان کی تحریریں اخبارات اور ادبی جرائد میں شائع ہو کر قارئین کے دلوں میں جگہ بناتی رہیں۔

اپنی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں اچیومنٹ ایوارڈ، سپر سٹیج ایوارڈ، مولانا ظفر علی خان ایوارڈ اور دیگر اہم اعزازات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سماجی و ادبی تنظیموں میں اہم عہدوں پر فائز رہ کر خدمتِ انسانیت کا فریضہ انجام دیتے رہے، جن میں صدر انجمن خدمت و تکریم، کلچرل ونگ کنٹیکٹ فاؤنڈیشن اور پاکستان یوتھ فورم جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔

بزمِ مصنفین ہزارہ میں ان کی خدمات ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ قلم کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرتی اصلاح اور فکری بیداری کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ ان کا طرزِ نگارش سادہ، موثر اور دل کو چھو لینے والا ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

محمد ریاض ملک کی زندگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اگر انسان میں لگن، محنت اور خلوص ہو تو وہ ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو ادب، فن اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر کے ایک مثالی کردار پیش کیا ہے۔

آج کے دور میں یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ ایسی شخصیات کی خدمات کو نہ صرف سراہا جائے بلکہ نئی نسل کے سامنے بطور مثال پیش کیا جائے، تاکہ وہ بھی علم، ادب اور مثبت سوچ کے راستے پر گامزن ہو سکیں۔

بلاشبہ، محمد ریاض ملک کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کی خدمات ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں، جنہیں تاریخ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔