‎Writer==zainu khan

‎Ep:01

‎رات کے 3:11  کا وقت تھا وہ اپنے موبائل میں کچھ دیکھ رہی تھی اور آنکھوں سے آنسوں خود گرم پانی کی طرح روا تے 

‎وہ مسلسل اس ایک تصویر کو دیکھی جا رہی تھی خود سے بے خبر تھی کے کب اس کے خاموش آنسوں ہچکیوں میں بدل گئے اس کی چھوٹی سی ناک زیادہ رونے کی وجہ سے بہنے لگی تھی آج وہ کچھ زیادہ ہی ہرٹ ہوئ تھی

‎اس کی بڑی بڑی نیلی آنکھے زیادہ رونے کی وجہ سے سرخ ہو گئ تھی اس تصویر کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنے ماسوم چھوٹے چھوٹے ہونٹو پر بہت ظلم کیا یہاں تک کہ اس کے منہ میں خون کا زایکہ گلنے لگا اس کو وہ درد زرہ سا بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا کیو کہ جو درد اسے دل میں محسوس ہو رہا تھا یہ درد اس کے سرے برابر بھی نہیں تا

‎ابھی صرف دس منٹ ہی ہوۓ تے کے اس کی پتا نہیں روتے روتے کب آنکھ لگ گئی لیکن رات کو بھی شائد اس کا رونا پسند آگیا تھا

‎تب ہی اس کے روم کے دروازے پے دستک ہوئی نیکاہ بیٹا جلدی آؤ دروازہ کولو باہر آؤ ہوسپیٹل جانا ہے تمہاری دادی کی تبیت ٹیک نہیں ہے

‎                                  (01)

‎==================================