علم کی روشنی اور مہذب معاشرہ
تحریر: فخرالزمان سرحدی، ہری پور
تمہید
آج کے تیز رفتار دور میں جہاں دنیا ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے، وہیں ایک مہذب اور متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ یہ شعور، فکر اور کردار سازی کا وہ عمل ہے جو انسان کو ایک بہتر شہری بناتا ہے۔
تعلیم اور فرد کی تعمیر
تعلیم انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور اس میں سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ وہ اچھے اور برے میں تمیز کر سکتا ہے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں توازن قائم رکھتا ہے۔
معاشرتی ہم آہنگی میں تعلیم کا کردار
کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی اس کے افراد کے رویوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ جب لوگ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں تو ان میں برداشت، رواداری اور احترام جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔ یہی اوصاف ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ تعلیم تعصب، نفرت اور تنگ نظری کو کم کرتی ہے اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔
تعلیم اور عملی زندگی
تعلیم کا اثر صرف کتابوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ عملی زندگی میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ایک باشعور فرد اپنے معاملات میں دیانت داری، وقت کی پابندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے فرائض ادا کرتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے۔
ترقی کا راز: علم
تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو علم کو اپناتی ہیں۔ تعلیم کے بغیر نہ ترقی ممکن ہے اور نہ ہی خوشحالی۔ شاعر مشرق نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ"
نئی نسل اور ہماری ذمہ داری
ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ انہیں صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ حقیقی علم، اخلاق اور کردار سازی کی طرف راغب کریں۔ یہی نسل مستقبل میں ایک مضبوط اور کامیاب معاشرہ تشکیل دے گی۔
نتیجہ
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ تعلیم ایک روشن چراغ کی مانند ہے جو نہ صرف فرد کی زندگی کو منور کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو روشنی بخشتا ہے۔ جب ہر فرد علم کے نور سے آراستہ ہوگا تو ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں مہذب، خوبصورت اور کامیاب بن جائے گا۔